نواز شریف کے نااہل ہوتے ہی پاکستان سے دھاندلی کی رخصتی کی خبر آ گئی ۔۔۔الیکشن 2018 کو شفاف بنانے کے لیے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیا شاندار قدم اٹھا لیا ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پتہ نہیں کہ ہمیں مینڈیٹ حاصل ہے بھی یا نہیں ،وکلاسے پوچھیں گے ،سرکاری اشتہارات پر سیا سی شخصیات کی تصاویر شا ئع نہ کی جائیں،ہم سیا سی مہم کی اجا زت نہیں دے سکتے ،ثاقب نثار پی بی اے اور اے پی این ایس سفارشات بنا کر دیں

سرکاری اشتہار بند نہیں کرینگے ،عدالت،سیکرٹری اطلاعات کے پی کے سے وزیراعلیٰ اورپارٹی چیئرمین کی تصاویروالے اشتہارات کی تفصیل طلبچیف جسٹس میا ں ثاقب نثار نے میڈیا کو جا ری سرکاری اشتہارات پر سیاسی شخصیات کی تصاویر کو شا ئع کر نے کے خلاف از خود نو ٹس کیس میں کہا ہے کہ سرکاری اشتہارات پر سیا سی شخصیات کی تصاویر شا ئع نہ کی جائیں ہم سیا سی مہم کی اجا زت نہیں دے سکتے ،انہو ں نے سیکرٹری اطلاعات کے پی کے سے کہا کہ تمام تر اشتہارات سے اپنی پارٹی کے چیئر مین یا وزیر اعلیٰ کی تصاویر شا ئع کر نا بند کر دی جا ئیں بلکہ سندھ حکومت بھی محترمہ بے نظیر بھٹو یا بلا ول کی تصاویر کو اشتہارات پر شا ئع نہ کر ے اور بتایا جائے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیا55 لاکھ رو پے قومی خزانے میں جمع کرا دئیے ہیں،چیف جسٹس نے پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن اوراے پی این ایس کے وکلاء کو ہدا یت کی کہ سرکاری اشتہارات کے بارے میں سفا رشات بنا کر دیں ہم سرکاری اشتہارات کو بند نہیں کر یں گے ،چیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین ر کنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،سیکرٹری اطلاعات کے پی کے قیصر عالم نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ٹی وی، اخبار، ریڈیو اور سوشل میڈیاپراشتہارات دیئے گئے ، سوشل میڈیا کو کسی قسم کی ادائیگیاں نہیں کی جاتیں

جب کہ وزیراعلیٰ یا عمران خان کی تصویر اشتہارات میں دینے کی پالیسی نہیں۔ ان کی حکومت نے گزشتہ تین ماہ میں 20کروڑ45لاکھ رو پے اور گزشتہ پانچ سال میں ایک ارب 63کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کیے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سال میں جتنے بھی ایسے اشتہارات جاری ہوئے جن پر پارٹی چیئر مین اور وزیر اعلیٰ کی تصاویر تھیں ان کی تفصیلات پیش کی جا ئیں اور آپ بیان حلفی دیں کہ اشتہارات پر وزیر اعلیٰ اور پارٹی چیئر مین کی تصاویر شا ئع نہیں ہوئی ، اگر آپ کی معلومات غلط ہوئیں تو ذمہ دار ہو ں گے ،عمران خان ایک اشتہار میں ظاہر ہوئے جس میں کہا گیا کہ لوگو ں کے خواب پورے ہوئے ،عدالت نے کہا کہ بظاہر کے پی کے کے اشتہارات خدمات کی تشہیر والے ہیں ،چیف جسٹس نے پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن کے وکیل بابرستارسے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ یہ سرکاری خزانے کی رقم ہے اور کیا درست سمجھتے ہیں کہ جو سیا سی جما عتیں الیکشن لڑنا چا ہتی ہیں ان سب کے لئے ایک جیسا ہموار میدان ہے ، سرکار کے پیسے سے کسی کی ذاتی تشہیر نہیں ہو نی چا ہیے ،چیف جسٹس نے با بر ستار اور ایڈووکیٹ منیر اے ملک سے کہا کہ آپ ہم کو ایک فارمولا بنا دیں اور جس نے بھی جو کچھ کر نا ہے وہ اپنی پارٹی کے فنڈز سے کر ے یا پھر اپنے ذاتی پیسے لگا ئے ،

منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ اس با رے میں انڈیا کی سپریم کورٹ دو فیصلے دے چکی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو ہمارا کام آسان کر دیا ہے ،آپ دونو ں بیٹھ کر آئندہ کے لیے گائیڈ لائن بنا دیں جو کہ قابل جواز ہو جبکہ پہلے جو کچھ ہوگیا اس کو بھی دیکھتے ہیں کہ کس کس سے وصولی کر نی ہے اور کتنی کتنی کر نی ہے اور ان ادارو ں میں جن جن بچو ں کو تنخواہیں نہیں دی گئیں ان کو تنخواہیں بھی ادا کی جائیں ،چیف جسٹس نے پنجاب کی لاء آفیسر سے پوچھا کہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب نے 55لاکھ رو پے جمع کرا دئیے ہیں جس پر لاء آفیسر نے چیک کی کاپی عدالت کو دی اور بتایا کہ یہ پارٹی کے فنڈز سے 55 لاکھ روپے جمع کرا ئے جا ئیں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پھر الیکشن کمیشن کو بھی کہیں گے کہ پارٹی فنڈنگ کو چیک کر یں، ہم یہ دیکھیں گے ابھی پتہ نہیں کہ ہمیں مینڈیٹ حاصل ہے بھی یا نہیں یہ ان وکلاء سے پو چھیں گے ،الیکشن میں حصہ لینے والے سب کے لئے ایک جیسا ہموار میدان ہو اور کو شش کر یں گے کہ ستر کے بعد صاف شفاف الیکشن منعقد ہو ں ،الیکشن میں بیوروکر یسی کو بھی دوسرے صوبوں میں تبدیل کر دیں گے جو بڑی بڑی تو پیں عہدوں پر ہیں ان کو بھی دوسرے صوبو ں میں تبدیل کر یں گے ،عدالت نے وکلا کو ہدا یت کی کہ وہ اس با رے میں سفارشات دیں کہ سرکاری اشتہارات کی اشا عت با رے میں کیا حل نکالا جائے جبکہ عدالت نے سیکرٹری انفارمیشن کے پی کے کو آ ج تفصیل دینے کی ہدا یت کردی۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں