احد چیمہ کےبعد نیب نے شہباز شریف کے ایک اور منظور نظر سرکاری افسر کیخلاف ایسا حکم جاری کر دیا کہ تختِ پنجاب کی بنیادیں تک ہل کر رہ گئیں

لاہور(ویب ڈیسک ) نیب نے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب حکومت کے ایک اور افسر کی تفصیلات مانگتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ دیا ہے۔نیب نے پنجاب حکومت سے ایک اور افسر کی تفصیلات مانگتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے منظور نظر افسر سیکرٹری

انفارمیشن راجہ جہانگیر کے حوالے سے خط چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیج دیا ہے، راجہ جہانگیر گریڈ 18 کے افسر ہیں جب کے گریڈ 20 کی سیٹ پر تعینات ہیں۔راجہ جہانگیر کے پاس ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن کا بھی اضافی قلم دان ہے، محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کی پی ایس کی سیٹ پر خلافِ ضابطہ محکمہ انفارمیشن کا افسر تعینات ہے، نیب نے راجہ جہانگیر کے ساتھ ساتھ محکمہ انفارمیشن میں پچھلے 14 سال سے تعینات پی ایس ٹو سیکرٹری کی بھی تفصیلات مانگ لی ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں گرفتار

کیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب بیوروکریسی نے ہڑتال کردی تھی اور ڈی ایم جی افسران نے اپنے دفاتر کو تالے لگا کر سیکرٹیریٹ آفس بند کردیے تھے۔یاد رہے کہ نیب نے 21 فروری کو کارروائی کرتے ہوئے لاہور ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی کی 32 کنال اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔احد چیمہ کی گرفتاری پرپنجاب حکومت اور بیورو کریسی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا جب کہ بیورو کریسی کی جانب سے قلم چھوڑ ہڑتال کی بھی دھمکی دی گئی۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے احد چیمہ کی گرفتاری پر افسران کو احتجاج سے روک دیا

جب کہ انہوں نے حکم دیا کہ کوئی افسر احتجاج نہیں کرےگا، جسےاستعفیٰ دینا ہے وہ دے دے اور جسے بلایا جائے، وہ تعاون کرے۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ یہ احد چیمہ کون ہیں اور آج کل کہاں ہے؟ اس پر ڈی جی ایل ڈی اے نے جواب دیا کہ احد چیمہ قائداعظم پاور پلانٹ کے سی ای او ہیں اور نیب کی حراست میں ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ گریڈ 19 کی کیا تنخواہ ہےاور احدچیمہ کتنے لیتے تھے؟ چیف سیکریٹری صاحب بتائیں، احدچیمہ کتنی تنخواہ اور مراعات لیتےہیں؟احمد چیمہ کی سروس پروفائل اور مراعات کا ریکارڈ طلبچیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ ڈی ایم جی افسران ایک لاکھ تنخواہ لیتے ہیں اور احد چیمہ 15 لاکھ روپے کے قریب تنخواہ لے رہے تھے۔عدالت نے احد چیمہ کا سروس پروفائل اور تنخواہوں اور مراعات کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے احد چیمہ کی گرفتاری پر پنجاب اسمبلی میں نیب

کے خلاف قرارداد پاس ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی سے احد چیمہ کےحق میں کیسےقرارداد پاس ہوئی؟ کس حیثیت سے نیب کےخلاف قرارداد منظور کرائی گئی، ایسے تو قرارداد آجائےگی کہ سپریم کورٹ نہیں بلا سکتی۔کیا سپریم کورٹ بلائے تو اس کیخلاف قرارداد منظور کرلی جائیگی؟ چیف جسٹسجسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اپنے سیاسی باسز کو کہہ دیں کہ پھر سپریم کورٹ کے خلاف بھی قرارداد منظور کرا لیں، کیا سپریم کورٹ بلائے تو اس کے خلاف قرارداد منظور کرلی جائے گی۔چیف جسٹس پاکستان نے احد چیمہ کے کیس کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ نیب کو کوئی بھی ہراساں نہیں کرے گا اور نیب کو واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کسی کو ہراساں نہ کرے، اگر نیب کسی کو طلب کرے تو وہ پیش ہو۔واضح رہےکہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں احد چیمہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر نیب کے خلاف اور احد چیمہ کے حق میں قرار منظور کی گئی تھی۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں