نواز شریف پر جوتا پھینکنے والا شخص 10، 10 ماہ تک گھر کیوں نہیں جاتا ؟انکشافات سے بھرپور خبر آگئی

مظفر گڑھ (ویب ڈیسک) لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر جوتا پھینکنے والا ملزم منور حسین مظفر گڑھ کے علاقے محمود کوٹ کی بستی جام والا کا رہائشی نکلا۔ منور حسین کے 4 بھائی بلال حسین ، محمد طارق، محمد فیاض اور عمران ہیں، والد اور بھائیوں کے مطابق منور حسین لاہور

میں مدرسے میں معلم اور ٹیوشن پڑھاتا تھا اور وہیں بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے، گزشتہ 10 ماہ سے گھر نہیں آیا، اہل خانہ کے مطابق ان کا پورا خاندان مسلم لیگ (ن ) کا ہی ووٹر ہے، معلوم نہیں منور حسین نے نواز شریف پر جوتا کیوں پھینکا ، منور حسین کی گرفتاری کے بعد سے رابطہ نہیں ہوا جس وجہ سے اس کی والدہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور وہ سخت علیل ہے، دوسری جانب منور حسین کی رہائی کے لیے اس کے

اہل خانہ نے خیراتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، ان کا ماننا ہے کہ منور کو مصبتوں اور بلاؤں نے گھیر رکھا ہے جس سے چھٹکارے کے لئے وہ خیراتے کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم محمد نواز شریف پر تقریب کے دوران جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینک دیا گیا۔ سابق طالبعلم منور سگوئی نے جوتا پھینکا جو نواز شریف کے کندھے پر لگا ڈائس کے سامنے آکر نعرے بھی لگائے جس پر وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور شرکاء نے منور کو فوری طور پر قابو کر لیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا، قبل ازیں پنڈال میں موجود عبدالغفور کی جانب سے

میاں نواز شریف کی جانب پھینکا جانے والے جوتا سٹیج پر گرا، جس کے بعد پولیس نے جوتا پھینکنے والے دونوں نوجوانوں اور ان کے مبینہ ساتھی ساجد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، مشتعل لیگی کارکن تھانے پہنچ گئے اور حوالات میں بند ملزمان کو مارنے کی کوشش کی اور باہر سے کھڑے ہو کر جوتے دکھاتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد نواز شریف گڑھی شاہو میں واقع جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام مفتی محمد حسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کی یاد میں منعقدہ سالانہ تقریب میں شریک تھے۔ جیسے ہی نواز شریف خطاب کے لئے ڈائس پر پہنچے تو سٹیج کے قریب موجود ایک نوجوان نے ان پر جوتا پھینک دیا اور اس نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے نعرہ بھی لگایا ۔ نواز شریف کی سکیورٹی نے انہیں

فوری طورپر اپنے حصار میں لے لیا جبکہ دیگر اہلکاروں اور شرکاء نے جوتا پھینکنے والے شخص کو قابو کر لیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ بیہوش ہو گیا۔ نواز شریف مختصر خطاب کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔ جامعہ نعیمیہ کی انتظامیہ نے جوتا پھینکنے والے نوجوان کو ہوش میں لا کر اس سے پوچھ گچھ کی جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ بتا یاگیا ہے کہ جوتا پھینکنے والے نوجوان کی شناخت طلحہ منور کے نام سے ہوئی ہے جو جامعہ کا ہی طالبعلم ہے۔ پولیس نے اس واقعہ میں ملوث ہونے پر اس کے دو ساتھیوں ساجد اور عبد الغفور کو بھی حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں