نئی نویلی بھارتی اداکارہ پریا پرکاش نے تو نہرو اور گاندھی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ، مشہور ترین حسینہ کی مقبولیت کے حوالے سے دنگ کر ڈالنے والی خبر آ گئی

ممبئی (ویب ڈیسک)بھارتی اداکارہ پریا پراکاش ورئیر شہرت کی اس قدر بلندی پر پہنچ گئیں ہیں کہ اب ان سے متعلق سوالا بھی امتحانات کا حصہ بننے لگے۔پریا پراکاش سوشل میڈیا سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والی ایک بھارتی اداکارہ ہیں۔ ان کی چند سیکنڈز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوئی تو

صرف ایک دن میں انسٹاگرام پر چھ لاکھ فالوورز آئے جبکہ اب ان کے فالوورز کی تعداد فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔اب وہ اس قدر شہرت حاصل کرچکی ہیں کہ انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ممبئی میں ہونے والے مڈٹرم امتحانات میں ان سے متعلق سوال ہی شامل کردیا گیا۔یہ سوال پروفیسر امیت سیٹھی کی جانب سے پڑھائے جانے والے مشین لرننگ کورس کے پرچے میں پوچھا گیا۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طالب علموں نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔دیویانی ورما نے بتایا کہ انہیں پرچے میں پریا پراکاش ورئیر کا نام دیکھ کر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ پرفیسر امیت سیٹھی اپنا کورس پڑھانے اور امتحان کو دلچسپ بنانے کے لئے انٹرنیٹ پر مشہور میمز سے متعلق بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ سول انجینئرنگ میں تھرڈ ائیر کے طالب علم ہردیک پاٹیل نے کہا کہ پروفیسر امیت پڑھانے کے دوران سلائیڈز میں مشہور میمز دکھاتے رہتے ہیں یا پھر فورم پر ڈال دیتے ہیں تاکہ بچوں کو متعلقہ معلومات فراہم کرسکیں۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے خود کو غیر منظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عام زندگی میں

بلکل بھی ایسے نہیں جیسے وہ فلمی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ عامر خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقی زندگی میں بہت غیر منظم ہیں۔بالی ووڈ اسٹار عامر خان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ’ فلمی دنیا میں مجھے جتنا منظم سمجھا جاتا ہے در حقیقت وہ حقیقی زندگی میں اْس کے برعکس ہیں اور ایک غیر منظم شخص ہیں، یہ بات صرف اْن کے قریبی دوست ہی جانتے ہیں کیوں کہ صرف میرا کام ہی ہے جو کہ مجھے نظم ضبط میں رکھتا ہے اگر میں اداکار نہ ہوتا تو میں بے انتہا غیر منظم شخص ہوتا جو کہ ایک حقیقت ہے۔کتاب لکھنے کے سوال پر مسٹر پرفیکشنسٹ کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے مجھے اپنی زندگی پر کتاب لکھنے کا کہا یہاں تک کہ میں نے بھی کئی بار اپنی کہانی اور احساسات کو محفوظ کرنے کا سوچھا کہ بعد میں میرے کام آسکے لیکن کبھی میں اس پر بھرپور طرح سے توجہ نہیں دے سکا اور فلمی مصروفیات کی وجہ سے بھی کبھی کتاب لکھنے کا نہیں سوچا البتہ اگر موقع ملا تو میں فطری طور پر اپنی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کے تجربات پر لکھنا چاہوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں