یااللہ خیر بہت جلدایک بھیانک زلزلہ آنیوالاہے جس میں کتنے کروڑلوگ لقمہ اجل بنیں گے ؟ماہرین کے لرزہ خیزانکشافات

لاہور (نیو زڈیسک ) ہندو کش پر جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ماہر خلائی سائنسز پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپیس سائنسز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرسید عامر محمود نے خصوصی گفتگو میں کہی ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے اندر تین بڑے پہاڑی سلسلے مشہور ہیں ۔سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ قراقرم، دوسرا کوہ ہمالیہ اور تیسرا ہندوکش ہے اور پنجاب کی

طرف زیادہ زلزلوں کا رجحان ہندوکش پٹی کا ہے ۔ہندوکش پہاڑی سلسلہ ایران سے شروع ہو کر ہرات سے افغانستان داخل ہوتا ہے ۔ادھر سے چترال کے شمال مغرب میں ترچ میر ہندو کش سلسلہ کی سب سے اونچی چوٹی تصور کی جاتی ہے ۔اس کی اونچائی 25ہزار136فٹ بتائی جاتی ہے اور ہندوکش کا فاصلہ تقریباً2ہزار کلو میٹر طویل ہے ۔حیران کن امر یہ ہے تینوں بڑے پہاڑی سلسلے قراقرم ،ہمالیہ اور ہندو کش گلگت بلتستان میں جگوٹ پر آکر ملتے ہیں ۔انہیں جگوٹ جنکشن کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔کوہ سلیمان اور چمن فالٹ لائن کا کنکشن ہندو کش سے جڑا ہے ،کالا باغ ڈیم کے قریب جسے کالا باغ فالٹ کہا جاتا ہے وہاں سے ماؤنٹین کا سلسلہ شروع ہو کر پنجاب کے میدانی علاقے میں داخل ہو جاتا ہے ۔اس کے بعد سرگودھا ،گوجرانوالہ ،شیخوپورہ ،حافظ آباد، ننکانہ صاحب ،لاہور سے قصوراور انڈین گجرات تک یہپٹی جاتی ہے اور اس پر ہولو سین پیریڈ کے دوران ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے زلزلے آئیں گے۔نئے سال کا آغاز ہونے سے قبل ہی اس کے متعلق پیش گوئیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور کچھ ایسا ہی سال 2018 کے متعلقدیکھنے میں آ رہا ہے اگرچہ بیش تر پیش گوئیاں برے سیاسی و معاشی حالات سے خبردار کر رہی ہیں لیکن قدرتی آفات سے متعلق کی جانے والی ایک پیش گوئی تو ان سب سے بڑھ کر خوفناک ہے۔دی گارڈین کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے سائنسدان راجر بلحام اور یونیورسٹی آف مونٹاناکی سائنسدان ربیکا بینڈک نے اپنی ایک مشترکہ تحقیق گزشتہ ماہ جیالوجیکل سوسائٹی آف امریکا کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی ہے۔ اس تحقیق میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ اگلا سال تباہ کن زلزلوں کا سال ہو گا۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے سال تقریباً 20 زلزلے متوقع ہیں، جن میں سے اکثر بڑے زلزلے ہوں گے،یعنی ان کی شدت رکٹر سکیل پر

7 یا اس سے زائد ہو گی۔ماہرین نے ان زلزلوں کی وجہ زمین کی سست ہوتی گردش کو قرار دیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ہر پانچ سال بعد زمیں کی گردش کی رفتار میں معمولی سی کمی واقع ہوتی ہے، لیکن یہ کمی سطح زمین پر بڑی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ چار سال سے یہ واقعہ پیش نہیں آیا لیکن اگلے سال زمین کی گردش کی رفتار میں کمی متوقع ہے ۔اگرچہ یہ کمی محض ایک ملی سیکنڈ کی ہو گی، لیکن تباہ کن زلزلوں کا سلسلہ شروع کرنے کے لئے اتنی معمولی سی تبدیلی ہی کافی ہو گی۔ تحقیق کے مطابق گزشتہ چار سال کے دوران بڑے زلزلوں کی سالانہ اوسط چھ رہی ہے، لیکن سال 2018 میں یہ درجن بھر سے زائد ہو گی۔ ان زلزلوں کی سب سے بڑی تعداد خط استواءکے قریبی خطوں میں رونما ہو گی۔ یہ دنیا کے گنجان آباد ترین خطے ہیں، جہاں ایک ارب سے زائد انسان بستے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرمہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آنے والا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً چار کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے،زلزلوں پر تحقیق کرنے والے ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرمہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آنے والا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً چار کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔خبر کے مطابق ڈاکٹر کیشے کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ براعظم ایشیااور امریکہ کو نشانہ بنائے گا جس کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی امریکہ کی براعظمی پلیٹیں ٹکڑوں میں بٹ جائیں گی اور ان براعظموں میں واقع ممالک تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ڈاکٹر کیشے کہتے ہیں کہ ریکٹر اسکیل پر 6اور 8.3 شدت کے زلزلے محض ایک ابتداہونگے اور آنے والے موسم خزاں سے پہلے سب سے بڑا زلزلہ آسکتا ہے جو اس قدر تباہی کرے گا کہ اسے سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر مہران توکلی کیشےکا کہنا ہے کہ

آنے والے دنوں میں 10 سے 16 شدت کے زلزلے آئیں گے اور بعض ممالک میں تو ان کی شدت 20 سے 24 تک ہوگی۔ یہ زلزلے زمین کے جنوبی نصف کرہ کو صفحہ ہستی سے مٹاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر کیشے کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں چین اور جاپان سب سے پہلے زلزلے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عالمی پیمانے پر آنے والے ان زلزلوں کے نتیجے میں دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی اور عالمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا گویا ایک طرح سے دنیا خاتمے کے قریب پہنچ جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں