اگر سہاگ رات کو دلہن کے جسم سے یہ چیزخارج نہ ہو تو اسے طلاق دے دی جائے۔۔۔۔یہ عجیب و غریب رواج کہاں پر قائم ہے؟؟حیرت کے بڑے جھٹکے کےلئے تیار ہو جائیں

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) دقیانوسیت اور قدامت پرست بھارتی معاشرے میں تعلیم اور شعور کی کمی سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔ ستی کی رسم ختم ہونے کے برسوں بعد بھی بھارت کے ایک پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی عورت ذلت کا شکار ہے ۔ ایسی ہی خواتین ریاست مہاراشٹریہ کے کانجر بھت قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس قبیلے میں ایسی خواتین کو گھر

میں رکھنے کے قابل نہ سمجھتے ہوئے اگلی ہی صبح طلاق دے دی جاتی ہے ج کے جسم سے سہاگ رات میں اپنے شوہر سے قربت کے دوران خون نہ بہتا ہو۔ ایسی خواتین کو بدکارقرار دے دیا جاتا ہے اور واپس ماں باپ کے پاس بھیج دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے ایسا کرنے سے انھیں ” تاحیات نا اہلی ” کا پروانہ بھی مل جاتا ہے ۔ جاہلیت اور قدامت پرستی سے جکڑا کانجر بھت قبیلہ تو اتنا جدید ہوگیا ہے کہ شادی سے پہلے بھی خواتین کے کنوارے پن کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔جس کے مثبت نتائج پر ہی شادی کےلئے ہاں کی جاتی ہے۔ ۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے سربراہ وویک تامیچکر کا کہنا تھا کہ ”یہ رسم اب بھی بھارت میں بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ سہاگ رات میں دلہن کے بستر پر سفید چادر بچھائی جاتی ہے اور اگلی صبح رازداری سے متعدد لوگ اس چادر کو دیکھتے ہیں۔ کئی علاقوں میں تو اس چادر کو صحن میں لٹکا کر اس کی نمائش کی جاتی ہے۔ جس دلہن کی چادر پر خون لگا ہو اس کے سسرالی اس پر فخر کرتے ہیں اور جس کی چادر پر خون نہ لگا ہو اس کی اپنے سسرال میں یہ پہلی اور آخری رات ہوتی ہے۔ اب ہمیں اس ظالمانہ رسم کا خاتمہ کرنا ہو گا

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں