رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اورمدینہ کے بعد سب سے زیادہ کس ملک میں سکونت اختیارکی؟

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ کے بعد سب سے زیادہ جس علاقے میں سکونت اختیار کرنے کی وصیت کی وہ شام ہے۔
کئی صحابہ کرام کو آپ نے شام جانے کی وصیت کی۔مکہ اور مدینہ کے علاوہ شام ہی وہ جگہ ہے جس کے لیے آپ نے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:آپ ﷺ نے فرمایا کہ “اےاللہ ہمارے شام اور یمن میں برکت عطافرما(بخاری)

ایک حدیث میں فرمایا کہ خوشخبری ہو شام والوں کو! صحابہ نے پوچھا کیوں یارسول اللہ؟فرمایامیں دیکھ رہا ہوں شام کے اوپر فرشتے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔(ترمذی،مسند احمد)حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے کہا: “اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے بتائیں کہ میں کس علاقے میں رہوں، اگر مجھے پتا ہو کہ آپ ﷺ ہمارے ساتھ لمبے عرصے تک رہیں گے، تو میں آپ ﷺ کی رفاقت کے علاوہ کہیں اور رہنے کو ہرگز ترجیح نہیں دوں۔”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “شام کی طرف جاؤ، شام کی طرف جاؤ ، شام کی طرف جاؤ۔”پس جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ مجھے شام پسند نہیں ہے تو آپ ﷺ نے کہا: “کیا تم جانتے ہو کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ )اس کے بارے میں( کیا فرماتا ہے؟” پھر آپ ﷺ نے کہا: “شام میری زمینوں میں سے وہ منتخب کردہ زمین ہے جہاں میں اپنے بہترین عابدوں کو داخل کرتا ہوں۔”(ابو داؤدواحمد)ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ “جباہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میری)امت میں سے( کچھ لوگوں کی )حق پر ہونے کی وجہ سے( مدد کی جاتی رہے گی اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہوگی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ مسند احمد ج ۳۱ ) غزوہ خندق کے موقع پر آپﷺ نےامت کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا:”کہ مجھے شام کی چابیاں دیدی گئی ہیں،میں شام کےسرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں)مسلم(۔ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ”تم لوگ جزیرہ عرب پر جہادکرو گے تو الله اسے فتح فرمادے گا ، پھرفارس )ایرن(پر تو الله وہ بھی فتح کردے گا ،پھر تم روم )شام(پر غزوہ کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا،پھر تم دجال پر جہاد کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا ”

)مسلم(۔چنانچہ فارس)ایران(اورروم)شام وبیت المقدس(کوعہدِ فاروقی میں مسلمانوں نے فتح کیا۔شام تمدنی اوردینی لحاظ سے دنیا کا قدیم خطہ ہے۔یہ انبیاء کی سرزمین ہے،جہاں سیدناابراہیم علیہ السلام سے لےکر حضرت عیسی علیہ السلام تک کئی جلیل القدر انبیاء تشریف لائے۔ رحمت عالمﷺ نے نبوت سے پہلےاپنی زندگیکا طویل سفر شام ہی کا کیا ۔شام کی اہمیت کتنی ہے،اس کا اندازہ آپ ﷺ کے مذکورہفرامین سے باآسانی لگایا جاسکتاہے۔لیکن افسوس آقادوجہاں ﷺ کی بھرپوراہمیت بتانے کے باوجودآج امت مسلمہ نے شام کو بھلا دیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے پیغام کی خاطر قربانیاں دے کر شام کو فتح کیا،یہاں خدا کے دین کاعلم بلند کیا،قبلہ اول کوخداکے دشمنوں سے آزاد کروایا ،لیکن امت مسلمہ صحابہ کرام کی ان عظیم قربانیوں کو بھی فراموش کربیٹھی۔لہولہان،دربدراورمفلوک الحال نہتے شامی مسلمان پچھلے ساڑھے پانچ سالوں سے امت مسلمہ کوپکار پکار کر سوال کررہے ہیں کہ آخر ہمیں کیوں درندوں کے لیے اکیلا چھوڑ دیا؟کیا ہم ایک باپ)آدم(کیاولاد نہیں ہیں؟کیا ہمیں اللہ نے” انماالمؤمنون إخوة” کے ذریعےایک دوسرے کا بھائی نہیں بنایا؟کیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جسم کی مانند قرار دے کرایک دوسرے کی مدد کا حکم نہیں دیا؟کیا آقائے دو جہاںﷺ نے مکہ ومدینہ کے بعد ہمارے ملک شام کی اہمیت نہیں بتائی؟کیاآپ ﷺ نے شام کی خرابی اور بربادیکو پوری امت کی بربادی قرار نہیں دیا؟۔آہ امت مسلمہ سب کچھ جاننے کےباوجود غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہے اور اسلام کے دشمن یکے بعد دیگرے امت مسلمہ کو روندتے جارہے ہیں۔پچھلے ساڑھے پانچ سالوں میںپانچ لاکھ سے زائد شامی مسلمان بشار الاسد اور

ان کے حواری درندوں کی درندگی کی وجہ سے جاں بحق اورسات ملین سے زائدبے گھر ہوچکے ہیں۔ہرروز درجنوں لوگوں کو شہید کیا جارہاہے،سکولوں میں پڑھنے والے بچوں،ہسپتالوں میں علاج کروانے والے بیماروں تک کو بمباری کرکے شہید کیا جارہاہے،شام کےبڑے شہر حلب میں مسلمان کھانے پینے اور دیگر ضروریات زندگی کے نہ ہونے کے باعث سسک سسک کر مررہے ہیں۔لیکناقوام متحدہ ان مظالم کے خلاف اب تککچھ کرسکی ہے،نہ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے والےنام نہاد ٹھیکیدار بشار الاسد اور ان کے حواری دہشت گردوں کے خلاف کوئی اقدام کرسکے ہیں۔ہرکوئی اپنے مفاد کی جنگ لڑرہاہے ،لیکن اس جنگ میں خون صرف مظلوموں کا بہہ رہاہے۔ان نام نہاد ٹھیکیداروں اور مفادپرستوں سے گلہ نہیں،شکوہ ان لوگوں سے ہے ،جو اسلام کا دم بھرتے ہیں،جو ایک خدااور رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں،آخرکیوں وہ ان مظالم پر اب تک خاموش بیٹھے ہیں؟کیوں متحد ہوکر مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے نہیں اٹھتے؟۔اللہ نے نبی کریم ﷺاور صحابہ کرام کو مکہ میں رہنے والے ضعیف مسلمانوں کی مدد کے لیے اس طرح شکوہ کیا تھا کہ:)اےمسلمانو!(“تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے راستے میں ان بے بس مردوں،عورتوں،بچوں کے لیے نہیں لڑتے،جو یہ دعا کررہے ہیں؛”اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دیجئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں۔اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامیپیدا کردیجئے اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجئے”)سوہ نساء:74(۔کیا روزِقیامت اللہ کی عدالت میں

شام کے نہتے ضعیف اورمظلوم لوگ امت مسلمہ کےہرشخص کا گریبان پکڑکر یہ گواہی نہیں دیں گے کہ خدایا اِنہوں نے باوجود سب کچھ جاننے کے ہمارا ساتھ نہیں دیا،باوجود طاقت کے ظالموں کو ظلم سے نہیں رکوایا۔بھلااس وقت ہم خدا کو کیاجواب دیں گے؟۔یہوقت ہے کہ ہم شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے متحد ہوجائیں اور اپنی جان، مال اور عزت آبرو کی پروا کیے بغیر خدا اور اس کے رسول کی طرف سے دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کریں!

اپنا تبصرہ بھیجیں