حکومت کاپنجاب کے12 دیہات فوری طور پر خالی کرنے کاحکم

اسلام آباد(یونیوز رپورٹ) وفاقی حکومت نے 12 دیہات کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کہا ہے کہ ان 12 دیہات کی جگہ بڑی بڑی انڈسٹری لگے گی جبکہ ان دیہات کے لوگوں کو ان کی اراضی اور مکانوں کے معاوضے ادا کئے جائیں‌گے تاہم ان کے متبادل کے طور پر کسی قسم کی اراضی فراہم نہیں‌کی جائے گی، صرف اور صرف رقم ادا کی جائے گی.

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ایک مراسلہ کے مطابق 12 دیہات کے مکینوں‌کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی جائیدادیں چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوجائیں‌کیونکہ ان دیہات کی جگہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت انڈسٹریل زون بنے گا اور بہت بڑی بڑی انڈسٹری لگے گی جس کیلئے یہاں کی اراضی کی وفاقی حکومت کو ضرورت ہے. جاری مراسلہ کے مطابق ان دیہات میں للہ شریف، پنڈدادنخان، کندوال، منگوال، جسوال، دیوال، کٹھ سکھرال، راجڑ، کرڑ،نلوکر اور چندچکوک شامل ہیں، واضح رہے کہ یہ سارے دیہات ضلع جہلم کے ہیں جہاں پر سی پیک کی سڑک گزرے گی اور اس کے گرد صنعتی زون قائم کیاجائے گا.مراسلہ میں حکم جاری کیا گیا ہے کہ علاقہ خالی کرنے والے افراد کو ان کی اراضی اور پراپرٹی کے حساب سے باقاعدہ معاوضہ ادا کیاجائے گا تاہم ان کی پراپرٹی یا اراضی کے متبادل کے طور پر اراضی فراہم نہیں‌کی جائے گی. مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاوضہ مارچ 2018 سے لے کر ستمبر 2018 کے درمیان ادا کر دیاجائے گا، مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ عوام کا حق ہے کہ ان سے جو اراضی خریدی جارہی ہے اس پر کیا بنے گا اس لئے ہم اطلاع دیتے ہیں کہ ان کی اراضی پر صنعتی زون بنایاجائے گا.

مراسلہ میں کہاگیا ہے کہ چونکہ یہ منصوبہ پاکستان فوج کی زیر نگرانی تعمیر کیاجا رہاہے اس لئے اگر کسی فرد یا پارٹی یا گروپ نے کسی قسم کی مزاحمت کی تو اس کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا، علاوہ ازیں کہا گیا ہے کہ مذکورہ دیہات میں بنائی گئی مساجد، قبرستان اور پاک ہستیوں‌کے مزاروں کو ہرگزمسمار نہیں‌کیاجائے گا بلکہ ان کی حفاظت کی جائے گی. وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اس مراسلے کے بعد ان 12 دیہات کے مکینوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا شروع کر دیا ہے.

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں